منافقت | Hypocrisy Maxim GorkyHypocrisy ( )
which admit of much symbolic significance
تلسی داس جی کہتے ہیں کہ برسات میں مینڈکوں کے ٹرانے کی آوازیں اتنی زیادہ ہو جاتی ہیں کہ کوئل کی میٹھی اور سریلی کوک ،ان کے شور میں دب جاتی ہے۔ اس لئے کوئل مون دھارن یا خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہوا کہ جب چالاک ، عیّار ، دھوکے باز ، بے ایمان ؛ فریبی ، دغا باز اور بدقماش لوگوں کا بول بالا ہو جائے، تب سمجھدار انسان کی بات پر کوئی دھیان نہی دیتا ہے۔
عروج وزوال کی مکمل تاریخ
۲۰۲۱ میں زندگی کے 66 برس کی مناسبت سے 166 کائیوں ، 66 غزلوں اور اتنی ہی نثری نظموں پر مشتمل چوتھا شعری مجموعہ یر غمال خاک اگست میں منظر عام پر آیا۔
Book Name: Tasawwuf o Sufiya-e Balochistan
ﺳﯿﺪ ﺣﺒﯿﺐ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﭽﮧ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ۔ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮬﺶ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﻄﯿﻒ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻓﻮﺕ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﺳﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﺟﺐ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻟﮍﮐﺎ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﭘﮭﺮ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﻄﯿﻒ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﯾﮩﯽ ﻟﮍﮐﺎ ﺁﮔﮯ ﭼﻞ ﮐﺮ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﻦ ﮔﻮﺋﯽ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﻋﮕﺎﻧﮧ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﮨﻮﺍ۔
راسخ کی عرق ریزی آئندہ اس میدان میں تحقیق کرنے والوں کے لیے ایک نیا اور میناره روشنی فراہم کرے گی جو کہ تاریخ اُردو میں ایک خوبصورت اضافی کا باعث بنے گی۔
بابل کا امیر ترین آدمی ایک امریکی بیسٹ سیلر کتاب ہے ۔ اس کتاب کے مصنف جارج کلیسن ہیں ۔یہ کتاب ایک داستان کی طرز میں لکھی گئی ہے۔اس کہانی میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایک عام مزدور کچھ سادہ اصولوں کو اپناتا ہے اور آہستہ آہستہ وہ بابل کا امیر ترین شخص بن جاتا ہے۔ ۔اگرچہ یہ کتاب 1926 کو شائع ہوئی ۔لیکن اس میں شامل اسباق آج بھی اتنی ہے اہمیت رکھتے ہیں۔اسی لئے تقریباً ایک صدی گزرنے کے بعد بھی اس کی مقبولیت وافادیت دن بدن بڑھتی رہی ہے۔اس کتاب کو کلاسیک کا درجہ حاصل ہے ۔کہا جاتا ہے کہ معاشی آسودگی کا خواب دیکھنے والے ہر شخص کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے ۔ لیکن اگر آپ ابھی تک یہ کتاب نہیں پڑھ سکے تو آئیے اس کتاب میں شامل اہم اسباق اس لنک میں ملاحضہ کیجیے۔
Tamknat has served Ministry of Foreign Affairs as an Export Control Officer
HOSALY JEET JATY HAIN By Arif Shabir
1947ءمیں الطاف فاطمہ خاندان کے ہمراہ ہجرت کرکے لاہورآئیں۔ یونیورسٹی اورینٹل کالج سے ایم اے اردو اور بی ایڈ کے بعد درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئیں۔دورانِ تعلیم ہی باقاعدہ لکھنے کا آغاز کیا، ”نشانِ محفل“ ان کا پہلا ناول ہے ،یہ شاہکار ناول انہوں نے اپنے زمانۂ طالب علمی میں تحریر کیا تھا۔ ان کا یادگار ناول ”دستک نہ دو“ نصاب کا حصہ ہے جس کا انگریزی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے اور پاکستان ٹیلی ویژن سے اس کی ڈرامائی تشکیل بھی نشر ہوچکی ہے۔ ریڈیو کے لیے فیچرز بھی لکھتی رہیں۔ انہوں نے عالمی ادب پاروں کے اردو تراجم بھی کیے۔ ہارپر لی کے شہرہ آفاق ناول To Kill a Mocking Bird کا اردو ترجمہ ”نغمے کا قتل“ کے نام سے کرچکی ہیں جسے اردو ترجمے میں ایک مثال کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ بنگالی، مراٹھی، تامل، گجراتی اور ہندی افسانے؛ لاطینی امریکی خواتین اور جاپانی خواتین کے افسانوں اور ایلسا مارسٹن کی مشرقِ وسطیٰ سے متعلق کہانیوں کو بھی اردو کے پیرہن میں ڈھال چکی ہیں۔
کسو سے حرف محبت کا فائدہ نہ ہوا